John Elia Ghazal
تم تو تھیں جانانہ،جانانِ وفا۔۔
کس طرح بچھڑیں تم اپنے آپ سے۔۔
لٹ گیا سب سازو سامانِ وفا۔۔
تم۱وفا کو قتل کرسکتی ہو تم۱
تم کہ تھیں اُمیدو ارمانِ وفا۔۔
تھے بھلا کھینچے ہی جانے کے لیے۔۔
جان۱ دامان و گریبان ِوفا۔۔
یٰعنی آنسو ہچکیاں، سب کچھ تھا جھوٹ۔۔
تھا عبث ہر عہدو پیمانِ وفا۔۔
قہوہ خانوں میں تمھارا ذکر ہے۔۔



Comments
Post a Comment